ان فائلر ز پر گاڑیاں اور جائیداد خرید نے پر پابندی مالیاتی ٹرانزیکشن نہ کر سکیں گ
نان فائلر ز پر گاڑیاں اور جائیداد خرید نے پر پابندی مالیاتی ٹرانزیکشن نہ کر سکیں گے ،امریکی اضافی ٹیرف سے بھی منفی اثر پڑ سکتا: IMF
بجٹ میں شرح نمو کا ہدف 4.4 فیصد مقرر ہونے کا امکان، عوام کو انرجی سیور سنکھے قسطوں پر دینے کی منظوری، اعلان بیٹ میں ہوگا
اسلام آباد (ارشاد انصاری سے ) بین الا قوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستانی معیشت کو در پیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے قرض پروگرام کی انگلی اقساط کیلئے شرائط مزید سخت کر دی ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کی اقتصادی ٹیم نے بین الا قوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو نان فائلرز کے گرد گھیر امزید تنگ کرنے کی یقین دہانی کرادی جس کے تحت نان فائلر ز کیلئے گاڑیاں، جائیداد کی خریداری پر پابندی ہو گی۔ نان فائلر زمالی لین دین کی ٹرانزیکشن نہیں کر سکیں گے ۔ آئی ایم ایف نے پاک بھارتی کشیدگی بر قرار رہنے یا اس میں اضافے کو معیشت کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے مالی سال کے بجٹ اہداف پر پالیسی سطح کے مذاکرات جاری ہیں آئی ایم ایف مشن نے ٹیکس ریونیو بڑھانے اور اخراجات محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ماحولیاتی خطرات کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ، کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو محدود کرنے پر زور دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے خدشہ ظاہر کیا کہ علاقائی کشیدگی بڑھانے سے کاروبار بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ عدم استحکام سے مالی، بیرونی اور اصلاحاتی ایجنڈا متاثر ہو سکتا ہے۔ امریکی اضافی ٹیرف کے بھی پاکستانی معیشت پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ دریں اثناذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ آمدنی اور اخراجات پر حتمی مذاکرات ہو رہے ہیں ۔ حکومت سالانہ 10 سے 12 لاکھ تنخواہ لینے والوں کو ٹیکس فری کرنے کوشش کرے گی۔ ایف بی آرانکم ٹیکس میں ریلیف کی کوشش کرے گا۔ ٹیکس سسٹم سے نان فائلر ز کی کیٹگری ختم کرنے پر کام جاری ہے۔ ذرائع نے کہا کہ آئی ایم ایف کو بریفنگ دی گئی ہے کہ تاجر دوست سکیم اپنے اہداف پورے نہیں کر سکتی۔ غیر رجسٹر ڈ دکانداروں پر ود ہولڈنگ ٹیکس بڑھانے کے مثبت نتائج ملے۔ تاجروں ، ہول سیلرز کیٹگری میں فائلرز کی تعداد میں 51 فیصد اضافہ ہوا۔ دریں اثنا ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4.4 فیصد ، زرعی شعبے کا ہدف 4.8 فیصد اور صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.8 فیصد مقرر کئے جانے کا امکان ہے۔ مزید بر آں وزیر اعظم نے انرجی سیور سنکھے عوام کو آسان قسطوں پر دینے کی تجویز منظور کر لی۔ ذرائع کا کہنا ہے اس پلان کا اعلان آئندہ بجٹ میں کیا جائے گا۔ صارفین ان پنکھوں کی قیمت کی ادا ئیگی بجلی بلز کے ذریعے اقساط میں کر سکیں گے۔
