فضائی پٹائی کے بعد بھارت مزید پیٹنے اور رسوا ہونے
بری، فضائی پٹائی کے بعد بھارت مزید پیٹنے اور رسوا ہونے کو تیار نہیں تھا، ہماری شارکس نے بھارتی وہیل کو مار بھگایا، دشمن کو وہ سبق سکھایا جسے وہ قیامت تک یاد رکھے گا۔ دوران جنگ ہماری بندرگاہیں مکمل فعال رہیں، بھارتی ساحل پر تجارتی سرگرمیاں ماند، دشمن ہمیشہ ہمیں تیار پائے گا: کراچی میں بحریہ کے افسروں، جوانوں سے خطاب۔ اسلام آباد، کراچی (خالدم حمود، سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہماری افواج نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جسے وہ قیامت تک یاد رکھے گا، ہماری بحریہ اس بار بھی 1965ء کی طرح دوار کا کی تاریخ دہرانے کیلئے تیار تھی مگر بحریہ کی تیاری دیکھ کر دشمن کی ہمت نہیں ہوئی۔ کراچی میں پاکستان نیوی ڈاک یارڈ کے دورے کے موقع پر پاک بحریہ کے افسران وجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح اپنی افواج کے ساتھ کھڑی تھی اور کھڑی ہے، جس طریقے سے ہماری بری فوج نے دشمن کے ٹھکانوں پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے، اسی طرح ہماری فضائیہ نے دشمن کے ٹھکانوں پر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے وہ سبق سکھایا جو وہ قیامت تک یاد رہے گا، اسی طریقے سے ہماری بحریہ کی تیاری ویسے ہی تھی جیسی بری فوج اور فضائیہ کی تھی۔ جس طرح بری فوج اور فضائیہ نے مل کر اس کی پٹائی تو شاید وہ مزید پیٹنے اور رسوا ہونے کیلئے تیار نہیں تھا۔ یہ تاریخ کا وہ قابل فخر واقعہ ہے جس نے پاکستان کو پہلے بھی اور آئندہ کیلئے بھی ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔ میں اس موقع پر پی این ایس مہران کے شہید لیفٹینٹ یا سر کو سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے جان کی پرواہ کئے بغیر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہو کر اپنی جان کی قربانی دی، مگر پاکستان کے وقار اور بحری اثاثوں کے اوپر آنچ نہیں آنے دی، یہ تمام غ۔
بری، فضائی پٹائی کے بعد بھارت مزید پیٹنے اور رسوا ہونے کو تیار نہیں تھا، ہماری شارکس نے بھارتی وہیل کو مار بھگایا ، دشمن کو وہ سبق سکھایا جسے وہ قیامت تک یاد رکھے گا
دوران جنگ ہماری بندرگا ہیں مکمل فعال رہیں، بھارتی ساحل پر تجارتی سرگرمیاں ماند ، دشمن ہمیشہ ہمیں تیار پائے گا: کراچی میں بحریہ کے افسروں ، جوانوں سے خطاب
اسلام آباد، کراچی ( خالدم حمود ، سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں ) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہماری افواج نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جسے وہ قیامت تک یادر کھے گا، ہماری بحریہ اس بار بھی 1965ء کی طرح دوار کا کی تاریخ دہرانے کیلئے تیار تھی مگر بحریہ کی تیاری دیکھ کر دشمن کی ہمت نہیں ہوئی۔ کراچی میں پاکستان نیوی ڈاک یارڈ کے دورے کے موقع پر پاک بحریہ کے افسران وجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح اپنی افواج کیسا تھ کھڑی تھی اور کھڑی ہے، جس طریقے سے ہماری بری فوج نے دشمن کے ٹھکانوں پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے ، اسی طرح ہماری فضائیہ نے دشمن کے ٹھکانوں پر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے وہ سبق سکھایا جو وہ قیامت تک یاد رہے گا، اسی طریقے سے ہماری بحریہ کی تیاری ویسے ہی تھی جیسی بری فوج اور فضائیہ کی تھی۔ جس طرح بری فوج اور فضائیہ نے مل کر اس کی پٹائی تو شاید وہ مزید پیٹنے اور رسوا ہونے کیلئے تیار نہیں تھا۔ یہ تاریخ کا وہ قابل فخر واقعہ ہے جس نے پاکستان کو پہلے بھی اور آئندہ کیلئے بھی ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔ میں اس موقع پر پی این ایس مہران کے شہید لیفٹینٹ یا سر کو سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے جان کی پرواہ کئے بغیر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہو کر اپنی جان کی قربانی دی، مگر پاکستان کے وقار اور بحری اثاثوں کے اوپر آنچ نہیں آنے دی، یہ تمام غازی اور شہد اہماری قوم کا سرمایہ افتخار ہیں۔ بھارت کی حالیہ ناکام اور ہر یمیت آمیز مہم جوئی میں دنیا نے ایک بار پھر دیکھ لیا کہ ہماری بحریہ مکمل طور پر تیار تھی، بھارت کا فخر یہ ایئر کرافٹ کیر میئر وکرانت 400 ناٹیکل میل سے قریب آنے کی جرات نہیں کر سکا، یہ بے مثال دفاعی حکمت عملی اور جوانوں کے غیر متزلزل عزم کی زندہ مثال ہے۔ یہ کامیابی افواج پاکستان کی مربوط حکمت عملی اور بالخصوص سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر کی بہترین کو آرڈینیشن کی مرہون منت ہے جس نے پوری قوم کے عزم اور حو صلے کو نئی توانائی بخشی۔ اس امتحان کے دوران ہماری بندرگا ہیں مکمل طور پر فعال رہیں، کراچی اور بن قاسم پر تجارتی جہاز بلا تعطل آتے جاتے رہے ، جبکہ بھارت کے مغربی ساحل پر تجارتی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں۔ پانچ گنا بڑی بھارتی بحریہ اس پوری صورتحال میں مکمل طور پر مفلوج دکھائی دی، رافیل جہازوں کا حشر دیکھ کر ان کا نام نہاد و کر انت میدان جنگ سے یوں بھاگا کہ پلٹنے کانام تک نہ لیا، یعنی ہماری شارکس نے ہندوستانی و بیل کو مار بھگایا۔ بھارتی فوج ہماری بری اور فضائی افواج سے پٹائی دیکھ کر ہماری بحری فوج سے لڑنے کو تیار ہی نہیں ہوئی ورنہ پاکستان نیوی ایک بار پھر آپریشن دوار کا کی یاد تازی کر دیتی۔ پاکستان نیوی نے یقینی سمندری دفاع کے ذریعے مکمل میری ٹائم خود مختاری کو بر قرار رکھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہمارا دشمن خود اس بات کا اعتراف کر تا ہے کہ پاکستان نیوی نے خلیج فارس ، بحیرہ عرب اور بحیرہ احمر میں طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا ہے ، یہ آپ سب کی اور پوری قوم کی فتح ہے۔ ہم ایک امن پسند قوم ہیں اور اپنے تمام تصفیہ طلب مسائل کا پر امن حل چاہتے ہیں لیکن اگر ہم پر جنگ دوبارہ مسلط کی گئی تو دشمن ہمیں ہمیشہ تیار پائے گا، ہم جارحانہ عزائم نہیں رکھتے لیکن ہم اپنے وطن عزیز کے ایک ایک انچ کا تحفظ کرنا بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں ان تمام برادر ممالک کا بھی شکریہ ادا کرناچاہتا ہوں جنہوں نے نہ صرف ہمارا ساتھ دیا اور حوصلہ بلکہ پاکستان کے موقف کی بھر پور تائید کی کہ اگر پاکستان پہلگام کے افسوس ناک واقعے کی ایک شفاف عالمی تحقیقات کرانا چاہتا ہے تو بھارت کو اس پر کیا اعتراض ہے ۔ چین ، ترکی ، سعودی عرب ، آذر بائیجان اور دیرینہ دوست چین کا شکر یہ ادا کرنا چاہتا ہوں، میں صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کر نا چاہتا ہوں جنہوں نے دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ کی سلگتی آگ کو بھانپتے ہوئے جنگ بندی میں کلیدی کر دار ادا کیا۔ انہوں نے ٹرمپ کو ManofPeace قرار دیا۔ شہباز شریف نے آپریشن بنیان مرصوص میں پاک بحریہ کے اہم وکلیدی کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق وزیر اعظم کا استقبال چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈ مرل نوید اشرف نے کیا۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر اور چیف آف دی ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بھی موجود تھے ، وزیر اعظم پاکستان ڈسٹرائر پی این ایس
تیمور پر سوار ہوئے ، انہیں کمانڈر پاکستان فلیٹ نے پاک بحریہ کی سٹریجگ ، آپریشنل انڈرٹی کنگز اور جاری آپریشن کے دوران قابل ذکر شراکت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم نے پاک بحریہ کے افسران اور سیلرز سے ملاقات کی اور ان کی مثالی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تیاری اور قومی دفاع کیلئے ثابت قدمی کو سراہا، انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی صلاحیتوں پر غیر متزلزل اعتماد کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم کے ہمراہ وزیر دفاع خواجہ آصف ، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی بھی
تھے۔
